
ایک کہانی ہے😅😅😅
ایک بیروزگار نوجوان چڑیا گھر نوکری کی تلاش میں گیا۔
انچارج نے پہلے تو نہ کر دی مگر پھر اس کی حالتِ زار دیکھتے ہوئے اس کو بندر کی نوکری کی آفر لگا دی۔
"ہمارا بندر مر گیا ہے، اگر تم اس کی جگہ کام کرنا چاہو تو میرے پاس یہی ایک ویکنسی خالی ہے۔"
نوجوان: بندر کی نوکری؟
انچارج: ہاں
نوجوان: مجھے نہیں پتا کیسے کرنی ہے مگر میں تیار ہوں۔
انچارج: یہ کی ہے نا عقل کی بات۔ کل آ جانا سمجھا دوں گا۔
مجبور جوان دوسرے دن حاضر ہو گیا۔
انچارج نے کہا،
"یہ لو کھال... پہن لو۔
پنجرے میں بیٹھ جاؤ اور ہاں...!
تھوڑی تھوڑی دیر بعد ادھر ادھر چل پھر لینا ۔ بچے آئیں تو ایک آدھ قلابازی بھی لگا لینا۔
خیر وقت گزرنے لگا۔ جوان تنگ تو تھا مگر گھر میں روٹی ملنے سے اس کا دل لگا رہا۔
ایک دن بہت سے بچے آ گئے اور خوب چہل پہل ہو گئی۔
بچے اس کی حرکتوں سے خوش ہو کر مٹھائی پھل چپس اور پیسے تک پھینکنے لگے۔
مزید پیسوں کے لالچ میں جوان نے مزید اور لمبی لمبی چھلانگیں لگانا شروع کر دیا۔
ایک چھلانگ کچھ زیادہ لمبی ہو گئی اور وہ اچھل کر ساتھ والے پنجرے میں جا گرا۔
دیکھتا کیا ہے کہ یہ پنجرہ شیرکا ہے
خوف سے اس کی چیخ نکلتے نکلتے رکی۔ اور گھگھی بندھ گئی۔
شیر آرام سے اٹھا اور سکون سے چل کر اس کے قریب آگیا۔
جوان نے خوف سے آنکھیں بند کر لیں اور سمجھ لیا کہ آج بس موت پکی ہے۔
شیر اس کو سونگھنے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے منہ اس کے کان کے قریب لایا اور سرگوشی میں کہا،
"بے غیرتا...! اپنی نوکری دے نال میری نوکری دے وی پچھے پیا ایں۔
وڈی چھال مار تے واپس دفع ہو اپنے پنجرے وچ۔"
😅😅😅
0 Comments