Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo Full Story in Urdu

Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo Full Story in Urdu


خاموش سائے

رات کے سناٹے میں لاہور کی پرانی گلیاں ایک عجیب سا جادو رکھتی تھیں۔ بارش کے بعد بوسیدہ مکانوں کی چھتوں سے ٹپکتی بوندوں کی سرگوشیاں جیسے کسی بھید کی گواہی دے رہی ہوں۔ انھی گلیوں میں ایک پرانا، نیم اندھیرا مکان کھڑا تھا، جس کے دروازے پر زنگ آلود قفل لٹکا رہتا تھا۔ لوگ کہتے تھے کہ وہاں کبھی ایک بااثر خاندان آباد تھا جو اب نشانِ عبرت بن چکا ہے۔ مگر کہانیاں محض دیواروں تک محدود نہیں ہوتیں، وہ ان لوگوں کے ساتھ بھی چلتی رہتی ہیں جو ان دیواروں کے بیچ سانس لیتے ہیں۔


عائشہ انہی کہانیوں میں پل کر جوان ہوئی تھی۔ اس کا بچپن اسی مکان میں گزرا تھا جسے لوگ آج منحوس سمجھتے تھے۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ رہتی تھی جو ہر رات سوتے وقت اسے کہانیاں سنایا کرتی تھیں۔ لیکن ایک کہانی ایسی تھی جو دادی کبھی مکمل نہیں سناتیں، بس اتنا کہتی تھیں: "بیٹا، اس مکان کے سائے خاموش ضرور ہیں، مگر مردہ نہیں۔ وہ سنتے بھی ہیں اور دیکھتے بھی۔" عائشہ ہر بار چونک کر پوچھتی مگر جواب میں دادی کی آنکھوں کا خوف ہی ملتا۔


سال گزرتے گئے۔ عائشہ جوان ہوئی تو اس کی آنکھوں میں خوابوں کے چراغ جلنے لگے۔ یونیورسٹی کی زندگی نے اسے نئے رنگ دکھائے۔ وہ لائبریری میں گھنٹوں بیٹھتی، ادبی کتابیں پڑھتی، خاص طور پر سسپنس اور رومانوی ناول۔ اسے لگتا جیسے وہ اپنی ہی کہانی کی نایاب کردار ہے جو ایک دن کسی ایسے شخص سے ملے گی جو اس کے دل کے خالی گوشوں کو آواز دے گا۔ اور وہ شخص تھا حسان۔


حسان سے ملاقات کسی فلمی منظر کی طرح ہوئی۔ بارش کا دن، یونیورسٹی کی راہداری میں بجلی کا جھٹکا اور اندھیرا۔ ہجوم میں اچانک عائشہ کا توازن بگڑا اور کسی نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔ جب روشنی واپس آئی تو اس کے سامنے ایک اجنبی کھڑا تھا جس کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی اور ہلکی سی مسکراہٹ تھی۔ "آپ ٹھیک ہیں؟" وہ بولا۔ عائشہ کو لگا جیسے وقت تھم گیا ہو۔


اس دن کے بعد دونوں کی ملاقاتیں بڑھنے لگیں۔ حسان ادب کا ہی نہیں بلکہ تاریخ کا بھی شوقین تھا۔ وہ پرانی عمارتوں، بوسیدہ مکانوں اور بھولی بسری داستانوں کو زندہ کرنے میں دلچسپی لیتا تھا۔ عائشہ نے ایک دن جھجکتے ہوئے اسے بتایا کہ اس کا اپنا گھر بھی ایک پرانی کہانی میں لپٹا ہوا ہے۔ حسان نے پرجوش لہجے میں کہا: "پھر تو ہمیں وہاں جانا چاہیے۔ شاید ہم اس کہانی کے چھپے حصے کو ڈھونڈ سکیں۔" عائشہ نے پہلی بار ہچکچاتے ہوئے اجازت دی، حالانکہ اس کی دادی ہمیشہ منع کرتی تھیں۔


رات کا پہر تھا جب دونوں مکان کے دروازے کے سامنے کھڑے تھے۔ قفل حیرت انگیز طور پر کھلا ہوا تھا۔ دروازہ چرچراتے ہوئے جیسے خود انہیں خوش آمدید کہہ رہا ہو۔ اندر داخل ہوتے ہی ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ان کے جسم میں کپکپی دوڑا گیا۔ دیواروں پر پرانے فریم لٹک رہے تھے، تصویروں میں خوشحال چہرے تھے مگر آنکھوں میں ایک عجیب اداسی۔ عائشہ کا دل دھڑکنے لگا۔ حسان نے آہستہ سے کہا: "یہ مکان صرف کہانی نہیں، راز بھی ہے۔"


وہ آگے بڑھے تو کمرے کے کونے میں ایک پرانی ڈائری ملی۔ اس پر دھول جمی تھی مگر اندر کے الفاظ آج بھی تازہ تھے۔ ڈائری میں لکھا تھا: "ہم نے اپنے خواب بیچ دیے، بدلے میں دولت ملی مگر سکون چھن گیا۔ جو سائے آج ہمارے ساتھ ہیں، وہ کل ہماری نسلوں کو بھی اپنی گرفت میں لیں گے۔" عائشہ کے ہاتھ کانپ گئے۔ اس نے ڈائری بند کر دی مگر حسان کی آنکھوں میں تجسس مزید بڑھ گیا۔


اس دن کے بعد عجیب واقعات شروع ہو گئے۔ عائشہ کو راتوں کو قدموں کی چاپ سنائی دیتی، کبھی کھڑکی کے پاس سایہ سا دکھائی دیتا۔ دادی کی طبیعت اچانک بگڑنے لگی اور وہ بار بار کہتیں: "بیٹی، اس مکان کے سائے جاگ اٹھے ہیں۔" عائشہ نے حسان کو سب کچھ بتایا تو اس نے سنجیدگی سے کہا: "ہمیں حقیقت تک پہنچنا ہوگا، ورنہ یہ کہانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔"


ایک رات دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ مکان میں رات گزاریں گے۔ چاندنی آسمان پر پھیلی تھی، مکان کے کمرے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔ عائشہ اور حسان ایک پرانے کمرے میں بیٹھے، موم بتی کی مدھم روشنی میں ڈائری کے اوراق پڑھنے لگے۔ اچانک دروازہ خود بخود بند ہو گیا۔ ہوا کی ایک تیز لہر سے موم بتی بجھ گئی۔ اندھیرے میں کسی کی سرگوشی ابھری: "تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔"


عائشہ خوف سے کانپ اٹھی، مگر حسان نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔ "یہ صرف وہم ہے، حوصلہ رکھو۔" مگر جب کھڑکی کے شیشے پر ایک دھندلا سا چہرہ نمودار ہوا تو وہ خود بھی سہم گیا۔ حسان نے جرات کے ساتھ ڈائری کا آخری صفحہ پڑھا۔ اس میں لکھا تھا: "ہم نے اپنے ہی خون 

سے دھوکا کیا، اس مکان کی بنیاد پر قربانی

دی گئی۔ جب تک سچ دنیا کے سامنے نہیں آئے گا، یہ سائے زندہ رہیں گے۔"


اس لمحے کمرے کی دیوار پر ایک پرانا فریم گر کر ٹوٹ گیا۔ شیشے کے پیچھے ایک تصویر چھپی ہوئی تھی، جس میں عائشہ کی دادی جوانی میں نظر آ رہی تھیں، ساتھ ایک آدمی کھڑا تھا جسے عائشہ نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ نیچے لکھا تھا: "محمود اور زینت۔" عائشہ چونک گئی۔ دادی نے کبھی اس شخص کا ذکر نہیں کیا تھا۔


اگلے دن عائشہ نے دادی سے تصویر کے بارے میں پوچھا تو ان کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے۔ "وہ تمہارے نانا نہیں تھے، بلکہ میرا پہلا عشق محمود تھا۔ ہمارے خاندان نے دولت کی لالچ میں مجھے اس سے جدا کیا۔ محمود نے بددعا دی کہ یہ مکان سکون کبھی نہ دیکھے۔ اور وہ بددعا آج تک ہمارے ساتھ ہے۔" عائشہ کی آنکھوں میں حیرت اور دکھ کے ملے جلے جذبات تھے۔


حسان نے سنجیدگی سے کہا: "محبت کو دفن کرنے سے کہانیاں ختم نہیں ہوتیں، وہ سائے بن جاتی ہیں۔" اس کے بعد اس نے عائشہ کا ہاتھ تھاما اور کہا: "ہم اس کہانی کو ختم کریں گے، چاہے اس کے لیے سچائی کو دنیا کے سامنے لانا پڑے۔"


چند دن بعد یونیورسٹی میں ایک تحقیقی سیمینار ہوا، جہاں حسان نے اس مکان کی کہانی سب کے سامنے پیش کی۔ اس نے دکھایا کہ کس طرح لالچ اور جھوٹ نے ایک خاندان کی نسلوں کو برباد کیا، اور کس طرح محبت کو دفن کرنے سے نفرت نے جنم لیا۔ لوگوں نے کہانی کو دلچسپی سے سنا اور پہلی بار اس مکان کو عبرت کے بجائے ایک سبق کی علامت سمجھا۔


آہستہ آہستہ مکان کے سائے کمزور ہونے لگے۔ عائشہ کو راتوں کی چاپیں سنائی دینا بند ہو گئیں۔ دادی کا چہرہ پر سکون ہو گیا، جیسے برسوں کا بوجھ اتر گیا ہو۔ مگر ایک بات ہمیشہ باقی رہی: حسان اور عائشہ کے درمیان ایک ایسا رشتہ جڑ چکا تھا جو خوف اور سچائی کی بنیاد پر بنا تھا۔ ان کی محبت اب محض خواب نہیں بلکہ حقیقت تھی۔


کہانی ختم نہیں ہوئی تھی، بلکہ ایک نیا باب کھل چکا تھا۔ مکان اب بھی کھڑا تھا، مگر اس کی دیواروں کے پیچھے جو سائے تھے وہ خاموش ہو چکے تھے۔ اور خاموش سائے ہمیشہ ایک پیغام دیتے ہیں: "محبت کو دفن مت کرو، ورنہ وہ سایہ بن کر نسلوں کا پیچھا کرے گی۔"

Thanks for Read 


Aik PHD Professor Aur Setiyan Marne Wala Larka 

Spartex Aik Misri Ghulam Tha 

Kuch Saal Pahle Karachi Ke Aik Admi Ke Zahen Mai Aik Sheetani Khiyal Aya

Badshah Aur Rafugar Ki Kahani

Topiyan Bechne Wala

Jin Ka Bhai Horror Story

Saleem Miyan Ki Funny Story 

Do Admio Ne Aik 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya Full Story in Urdu 


Post a Comment

0 Comments