Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan (Part 1) Horror Story in Urdu

Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan (Part 1) Horror Story in Urdu


سایہ

(ایک لڑکی کی بھیانک داستان)


میرا نام عائشہ ہے۔

اگر میں یہ سب کچھ آپ کو نہ سناؤں تو شاید کوئی یقین نہ کرے۔ لیکن یہ کہانی میرے ساتھ پیدا ہونے سے بھی پہلے شروع ہو چکی تھی۔


میری زندگی کا پہلا اور سب سے بڑا نقصان میرے والد کی موت تھی۔ میں صرف تین سال کی تھی جب وہ ایک سڑک حادثے میں چل بسے۔ میں ان کے چہرے کو صرف ایک دھندلی سی تصویر میں دیکھ پاتی ہوں — وہ بھی تب جب کسی پرانی خاندانی البم کے پیلے کاغذ پلٹتی ہوں۔ والد کے مرنے کے بعد میری ماں، زینت، کسی صدمے میں گم ہو گئی۔ وہ گاؤں کے ایک کچے مکان میں رہتی تھی، مگر جیسے جیسے دن گزرے، وہ زیادہ خاموش اور اجنبی ہونے لگی۔ پھر ایک دن… وہ غائب ہو گئی۔ کسی کو نہیں پتا وہ کہاں گئی۔ میں نانی کے گھر پلنے لگی۔


شہر کی طرف سفر

میرے نانا کے انتقال کے بعد، ان کی دکان اور ایک پرانا مکان شہر میں میرے نام ہوا۔ دکان ایک سنسان گلی کے کونے پر تھی، اور مکان… بس یوں سمجھ لیں جیسے وہ مکان وقت کے شکنجوں میں قید ہو۔ زنگ آلود گیٹ، ٹوٹی کھڑکیاں، اور دیواروں پر نمی کے کالے دھبے۔ میں اور نانی وہاں شفٹ ہوئے۔ شہر کی راتیں خاموش تو نہیں ہوتیں، مگر اس مکان کے اندر کا سکوت عجیب تھا۔ یہاں کی خاموشی میں ایک بھاری پن تھا… جیسے کوئی سانس روکے پاس کھڑا ہو۔


پہلی رات کا ڈر پہلی رات ہی کچھ عجیب ہوا۔ میں کمرے میں لیٹی تھی جب کھڑکی کے باہر ہلکی سی دستک سنائی دی — ٹک… ٹک… ٹک…

میں نے نانی کو پکارا۔ وہ آ کر بولیں،

"بیٹا، شاید ہوا میں ٹہنی لگ رہی ہوگی۔"

میں نے مان لیا، مگر پھر وہی دستک آہستہ آہستہ زور پکڑنے لگی۔ اور پھر… کھڑکی کے کونے سے ایک سیاہ سایہ اندر جھانکا۔ آنکھیں نظر نہیں آ رہی تھیں، بس ایک خلا… لیکن وہ خلا مجھے گھور رہا تھا۔

اگلے دن میں نے نانی سے پوچھا، "یہ مکان کس کا تھا؟"

انہوں نے نظریں جھکا لیں، "یہ تمہارے نانا کو شادی کے وقت تحفے میں ملا تھا… مگر تمہارے باپ نے کبھی یہاں رہنا پسند نہیں کیا۔"میں نے مزید کریدنا چاہا مگر انہوں نے بات بدل دی۔ تب مجھے اندازہ نہیں تھا کہ وہ بات چھپانے کی کوشش کر رہی ہیں۔


سایہ بڑھتا گیا مہینے گزرتے گئے۔ میں جب بھی آئینے میں خود کو دیکھتی، پیچھے ایک دھندلا سا سایہ نظر آتا۔ پہلے میں سمجھتی کہ یہ روشنی کا کھیل ہے، مگر ایک دن دوپہر میں، جب سورج سیدھا کھڑکی سے اندر آ رہا تھا، تب بھی وہ سایہ میرے پیچھے کھڑا تھا… اور سانس لے رہا تھا۔

سانس کی آواز بھاری، اور سرد۔ جیسے کوئی صدیوں سے تھک کر آیا ہو۔ ایک رات، تقریباً آدھی رات کو، دروازے پر زور سے دستک ہوئی۔ نانی نے دروازہ کھولا اور وہ… میری ماں تھی۔ لیکن وہ پہلے جیسی نہیں لگ رہی تھی۔ اس کی آنکھوں کے نیچے سیاہ حلقے تھے، بال الجھے ہوئے اور چہرے پر ایک عجیب سی زردی۔


اس نے مجھے گلے لگایا، مگر اس کی بانہوں میں ایک ٹھنڈک تھی — ایک مردہ سی ٹھنڈک۔ میں نے کان میں سنا، وہ دھیرے سے بولی:" عائشہ… وہ تمہیں لینے آ گیا ہے۔


چند دن بعد ماں نے کہا کہ میں دکان پر اس کے ساتھ چلوں۔ دکان کے اندر پرانے فرنیچر، ٹوٹے ہوئے گلاس اور دھول سے اٹے کاؤنٹر تھے۔ لیکن کمرے کے پچھلے حصے میں ایک بند کمرہ تھا۔ اس کے دروازے پر پرانی زنجیر لٹک رہی تھی۔

ماں نے زنجیر کو ہاتھ لگایا تو اندر سے ہلکی سی آہٹ آئی… جیسے کوئی دیوار کے ساتھ سر رگڑ رہا ہو۔" یہ مت کھولو!" میں نے کہا، مگر ماں نے میری طرف دیکھا اور مسکرائی — وہ مسکراہٹ انسانی نہیں تھی۔

سایہ کا اصل چہرہ

رات کو خواب میں میں نے دیکھا، میں دکان کے اسی پچھلے کمرے میں ہوں۔ زنجیر خود بخود ٹوٹتی ہے، اور اندر سے وہ سایہ نکلتا ہے۔ اس بار اس کی آنکھیں نظر آ رہی تھیں… آنکھوں میں سرخی، جیسے جلتے انگارے۔ اس کا چہرہ کسی انسان کا نہیں، بلکہ ایک لمبا سا کھوپڑی جیسا۔ اس نے میرا نام پکارا۔ آواز میں اتنی گہرائی تھی کہ میرے کان بجنے لگے۔"عائشہ… تم میری ہو۔ تمہاری ماں بھی میری تھی… تمہارا باپ مجھے دینے سے انکار کر بیٹھا تھا… اور اس کا انجام تم جانتی ہو۔"

میں چیخ کر اٹھی۔ نانی میرے پاس آئیں، مگر کمرے میں اس وقت تک فرش پر پانی کے نشان بنے ہوئے تھے — جیسے کوئی گیلا وجود یہاں کھڑا رہا ہو۔چند دن بعد نانی اچانک بیمار پڑ گئیں۔ ہسپتال لے جانے سے پہلے انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر کہا،"اس مکان کو چھوڑ دو… یہ تمہارے خاندان کا قید خانہ ہے۔"


مگر میں کہاں جا سکتی تھی؟ماں اب پھر غائب ہو چکی تھی، دکان اور مکان میرے ذمہ تھے۔ اور سایہ… اب ہر جگہ میرے ساتھ تھا۔ کبھی کچن میں، کبھی آئینے میں، کبھی خواب میں۔اور آج رات… میں یہ سب لکھ رہی ہوں کیونکہ باہر کھڑکی پر وہی دستک ہو رہی ہے —

ٹک… ٹک… ٹک…

اور اس بار، میں جانتی ہوں، اگر میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا… تو وہ اندر آ جائے گا۔جاری ہے...کہانی کیسی لگی کمنٹس میں اپنی رایے کا اظہار ضرور دیجیے گا. اگلے حصہ جلد آپ تک پہنچ جائے گا .

Thanks for Read 


Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan (Part 2) Horror Story in Urdu 

Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan ( Part 3 ) Horror Story in Urdu 

Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo

Aik PHD Professor Aur Setiyan Marne Wala Larka 

Spartex Aik Misri Ghulam Tha 

Kuch Saal Pahle Karachi Ke Aik Admi Ke Zahen Mai Aik Sheetani Khiyal Aya

Badshah Aur Rafugar Ki Kahani

Topiyan Bechne Wala

Jin Ka Bhai Horror Story

Saleem Miyan Ki Funny Story 

Do Admio Ne Aik 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya Full Story in Urdu 


Post a Comment

0 Comments