Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan (Part 2) Horror Story in Urdu

Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan (Part 2) Horror Story in Urdu



سایہ – پارٹ 2

ایک شام عائشہ نے دروازے پہ دستک سنی اور جب اس نے دروازہ کھولا تو اسکی مان سامنے کھڑی تھی چپ چاپ خاموش سی تھوڑی پر اسرار سی لیکن وہ عائشہ کی مان تھی وہ اپنی مان کے لوٹنے پہ کیوں نا خوش ہوتی اور پھر اسکی ماں اسکی آخری سہارا بھی تو تھی اور پھر اس دنیا میں اسکا تھا بھی کون اسکی ماں کے علاوہ....

عائشہ کی آنکھوں کے نیچے سیاہ

 حلقے گہرے ہو گئے تھے۔ راتوں کو نیند آتی ہی نہیں تھی۔ وہ لمحہ جب کھڑکی کے باہر سے سرسراہٹ سنائی دیتی، یا کمرے کے کونے میں وہ دھندلا سا سیاہ سایہ کھڑا دکھائی دیتا… اس کا دل حلق میں آجاتا۔ماں اکثر رات کو اُٹھ کر اُس کے کمرے میں آتی اور دیکھتی کہ عائشہ پلنگ کے ایک کونے میں دبکی بیٹھی ہے، جیسے کوئی چیز اسے کمرے کے دوسرے حصے میں جانے نہیں دے رہی۔

"بیٹا، یہ سب وہم ہے… تم تھک گئی ہو…" ماں کہتی، مگر اُس کی اپنی آنکھوں میں بھی خوف کے سائے اُتر آتے۔ایک دن عائشہ کی ماں نے محلے کی ایک بوڑھی عورت سے ملاقات کی۔ وہ عورت، جسے سب "خالا زینت" کہتے تھے، اس محلے میں پچاس سال سے رہ رہی تھی۔

خالا زینت نے عائشہ کی ماں کو پہچانتے ہی کہا:"یہ وہی مکان ہے نا؟"ماں چونک گئی، "کون سا مکان؟"

"ارے بیٹی، یہی… تمہارا یہ گھر… یہ پہلے یوسف صاحب کا تھا… تمہارے سسر کے رشتہ دار…"ماں کی سانس رک گئی۔ "ہاں… وہی ہے… کیوں؟"خالا زینت نے آہستہ کہا:"یہ گھر منحوس ہے… یوسف صاحب کی بیوی پاگل ہو گئی تھی… لوگوں نے کہا اس پر سایہ ہے… اور ایک رات، وہ کھڑکی سے کود کر مر گئی…"


عائشہ کی ماں نے یہ بات اپنی بیٹی سے چھپانے کی کوشش کی، مگر کھڑکی سے اسنے جب وہ کچن میں پانی لینے گئی تو عائشہ نے سن لیا۔اس رات عائشہ سو نہ سکی۔ بارش ہو رہی تھی اور کھڑکی کے شیشے پر پانی کی بوندیں سرک رہی تھیں۔ اچانک اسے لگا جیسے کوئی کھڑکی کے باہر کھڑا ہے۔دل دہل گیا۔ وہ آہستہ سے اُٹھی اور پردہ ہٹایا۔کھڑکی کے باہر… وہی عورت کھڑی تھی۔ سفید کپڑوں میں، بال بھیگے ہوئے، چہرہ نیم دھند میں چھپا ہوا۔عورت کے ہونٹ ہل رہے تھے… جیسے کچھ پڑھ رہی ہو… یا پھر عائشہ کو بلا رہی ہو۔


اچانک بجلی چلی گئی۔ پورا کمرہ اندھیرے میں ڈوب گیا۔اور جب عائشہ نے دوبارہ دیکھا… وہ عورت کھڑکی کے اندر کھڑی تھی۔عائشہ کی چیخ سن کر ماں بھاگتی ہوئی آئی۔"کیا ہوا؟"

عائشہ روتے ہوئے ماں سے لپٹ گئی، "وہ… وہ اندر تھی…!"ماں نے کمرے میں چاروں طرف دیکھا، مگر کچھ نہیں تھا۔لیکن جیسے ہی ماں پلٹی… اسے لگا جیسے کوئی اس کے بالوں کو چھو کر گزرا ہو۔


اگلے دن عائشہ نے اسکول جانے سے انکار کر دیا۔ وہ دن رات گھر کے ایک ہی کونے میں بیٹھی رہتی۔ ماں نے فیصلہ کیا کہ وہ دکان پر جائیں گی اور کسی سے بات کریں گی جو اس سب کو سمجھ سکے۔

اور عائشہ کو اس وحشت اور ڈر سے نکال سکے 

عائشہ کی ماں نے محلے کی پرانی بڑھیا خالہ زینت کے گھر گئی اور ان سے ملاقات کی اور عائشہ کے ڈر اور خوف اور اسکے وحشت کی ساری کہانی بتاتے ھوے رو پڑی...

خالہ زینت نے کہا کے میں نے تمہیں اس شراپت گھر اور دکان کے بارے  میں پہلے ہی تمبیح کی تھی. بھر حال انہوں نے ایک روحانی بزرگ کا پتا دیا...

شہر سے تھوڑی دور جنگل کے قریب قریب ایک پرانے سے چھوٹے سے ٹالیوں والے گھر میں تعویذ والے بابا بیٹھتے تھے ۔عائشہ کی ماں نے بابا سے سارا واقعہ بیان کیا اور بہت منّت سماجت کرکے ماں اُسے لے کر گھر آئی۔

بابا نے گھر میں قدم رکھتے ہی کہا:

"یہ مکان میں بھٹکی ہوئی عورت کا سایہ ہے… یہ اُس وقت سے ہے جب اس نے یہاں اپنی جان لی… اب یہ تمہاری بیٹی کی جان چاہتا ہے۔"

بابا نے کچھ تعویذ دئیے اور کہا:

"یہ کمرے میں لٹکا دو، اور رات کو کسی حال میں کھڑکی نہ کھولنا۔"

اس رات ہوا تیز تھی، کھڑکی بج رہی تھی۔ عائشہ کو لگا جیسے کوئی بار بار کھڑکی کھولنے کی کوشش کر رہا ہو۔

پھر اچانک… کھڑکی خود بخود کھل گئی۔


بارش کے پانی کے ساتھ وہی عورت اندر داخل ہوئی۔ اس کے قدم زمین پر نہیں تھے، وہ ہوا میں تیر رہی تھی۔اس کا چہرہ اب صاف نظر آ رہا تھا — آنکھیں بالکل سفید، اور منہ کان سے کان تک پھٹا ہوا۔....عائشہ کی ماں کمرے میں آئی، مگر جیسے ہی اس نے عورت کو دیکھا… اس کی چیخ گلے میں ہی دب گئی۔عورت آہستہ آہستہ  کے قریب آئی، اور جیسے ہی اس نے ہاتھ بڑھایا… بجلی چمکی اور بابا کا تعویذ جل کر راکھ ہو گیا۔

صبح کے وقت محلے والے گھر کا دروازہ توڑ کر اندر آئے۔ کمرہ بالکل خالی تھا۔

ماں یا بیٹی… کوئی نہیں تھا۔


بس کھڑکی کے پاس فرش پر بارش کا پانی جمی ہوئی ایک چھوٹی سی جمی ہوئی خون کی لکیریں نظر آتی تھیں۔اور اُس پانی میں، دھندلا سا ایک عکس جھلک رہا تھا — ایک ماں اور بیٹی… مگر دونوں کے چہرے پر وہی سفید آنکھیں اور پھٹا ہوا منہ۔کہتے ہیں اس کے بعد، جو بھی اُس مکان میں رہنے آتا ہے… پہلی رات ہی کھڑکی پر ہلکی سی دستک 

سنتا ہے۔جاری ہے 

اب تک کی کہانی آپلوگوں کو کیسی لگی کمنٹس میں اپنی رایے کا اظہار لازمی کریں 

Thanks for Read 

Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan (Part 1) Horror Story in Urdu

Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo

Aik PHD Professor Aur Setiyan Marne Wala Larka 

Spartex Aik Misri Ghulam Tha 

Kuch Saal Pahle Karachi Ke Aik Admi Ke Zahen Mai Aik Sheetani Khiyal Aya

Badshah Aur Rafugar Ki Kahani

Topiyan Bechne Wala

Jin Ka Bhai Horror Story

Saleem Miyan Ki Funny Story 

Do Admio Ne Aik 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya Full Story in Urdu 



 

Post a Comment

0 Comments