SAK Urdu Shayri
غمِعاشقی
ایک دفعہ کی کہانی بنا کر سناتا ہوں! انسان کے پاس کہنے کو تو بہت کچھ ہوتا ہے لیکن وہ مجبور ہوتا ہے. کہنے والا بولنے والا بولنے کو تو بہت کچھ ہے لیکن بتاۓ کیسے، سناۓ تو سناۓ کیسے. اس لیے کہ شاید اس وقت کا درد اس انسان کی طاقت سے زیادہ تکلیف دہ ہو جس وجہ سے وہ بول نہیں سکتا. لیکن اس زندگی کے ساتھ صرف درد ہی جڑا ہوا نہیں ہے بلکہ ایک ایسی چیز جو انسان کو یہ سب کر نے یا کروانے پر مجبور کر دیتی ہے. دیکھنے کو وہ کچھ نہیں سوچنے کی وہ چیز نہیں، الفاظ ایسا جو ہر زباں سے تکلیف دہ نکلتا ہے
میں شیشہ پیتا ہوں، میں سگریٹ پیتا ہوں، میں الفاظوں کے بازار میں دنیاں کو پیتا ہوں جہاں میں درد پیتا ہوں وہاں میں یہ کہاں محسوص کرتا ہوں
آج گزر جانے کو چھے سال گزر گۓ، آج گزر جانے کو چار سال گزر گۓ، آج گزر جانے کو دو دن گزر گۓ، آج گزر جانے کو میرے پس کچھ نہیں سواۓ تیری یاد کے. میں کس کس نام سے تجھے یاد کروں تیرا کوئی نام نہیں، میں تیری کونسی پہچان کو لے کر بازار میں چلو جہاں تیری کوئی پہچان نہیں، اے عشـــق بتا میں کس غازی سے تیرا انعام لوں. آج زندگی کی تنہائی میں تو ہے میرے پاس لیکن تیرا کوئی فائدہ نہیں مجھے سواۓ بربادی کے. توں تو مجھے مرنے سڑنے تڑپنے کو چھوڑ گیا ایک ایسی جگہ جس کا نام غمِ عاشقی ہے. لیکن کرنے والے نے کیا خوب کی ہے محبت مجھ سے کے ہأ ئـــے مجھے تو عیسی علیہ السلام سے لے کے آبا آدام یاد آگیا. جو٧٠، ستر ماؤں جتنا پیار دینے والے نے جو راہ دی اے عشــق کیا پھر میں تھے یاد کروں جس نے عبادتِ محبتـــ کی راہ دیکھائی
درد ہو یا ہو کوئی مرض، غمِ عاشقی میں کوئی معافی نہیں
یہ کر کے محبت خدا نے مجھ سے یہ سیکھایا ہے مجھے
محبت میں وقت برباد کیا, عشق میں خد کو غُم نام کیا, مگر پھر بھی کچھ نصیب نا ہوا
تو یہاں سے ایک خیال سا آیا کی سواۓ بربادی کے کچھ نہیں محبت
نتیـــجہ: کرو محبـت یا محبــت کی کوئی یاد
زندگـی بھر ملــے گی نصـیب کی آگ




0 Comments