Lamha Judai Ka | Part 2

Lamha Judai Ka | Part 2


گھر واپس آ کر عاصم نے دروازہ بند کیا اور دیوار کے ساتھ سر ٹیک دیا۔ اُسے یاد آیا کہ جب وہ پہلی بار فلک سے ملے تھے تو اُس نے کہا تھا: "تمہاری آنکھوں میں ایک اداسی ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے۔" آج وہی اداسی عاصم کی آنکھوں میں تھی اور فلک کہیں دور جا چکی تھی۔ عاصم نے سوچا کہ شاید یہی محبت کی سب سے بڑی مذاق ہے کہ ہم ایک دوسرے کو تلاش کرتے ہیں اور پھر ایک دن ایک دوسرے سے دور ہو جاتے ہیں۔ اُس نے بستر پر لیٹ کر چھت کو دیکھا، وہی چھت جس پر فلک نے ایک بار تارے گنے تھے۔ اب وہ تارے بھی اداس تھے، جیسے اُنہیں بھی معلوم ہو کہ ایک کہانی ختم ہو چکی ہے۔


دن گزرنے لگے اور عاصم نے خود کو مصروف رکھنے کی کوشش کی۔ وہ دفتر جاتا، کام کرتا، واپس آتا، مگر ہر جگہ فلک کی کمی محسوس ہوتی تھی۔ جب وہ چائے بناتا تو دو کپوں کی عادت اب بھی قائم تھی۔ جب وہ کتاب پڑھتا تو صفحات پر فلک کے نوٹ نظر آتے۔ ایک دن اُس نے فلک کا فون نمبر ڈائل کیا مگر آواز آئی کہ یہ نمبر موجود نہیں ہے۔ عاصم نے سوچا کہ شاید فلک نے نیا نمبر لے لیا ہے، شاید وہ کسی اور شہر چلی گئی ہے۔ مگر وہ کچھ بھی یقین سے نہیں کہہ سکتا تھا۔ جدائی نے اُسے ایک ایسے جزیرے پر چھوڑ دیا تھا جہاں سے کوئی پل واپسی نہیں تھا۔


ایک شام جب عاصم بازار جا رہا تھا تو اُس نے دور سے ایک لڑکی دیکھی جس کے بال فلک کی طرح تھے۔ وہ دوڑ کر قریب گیا مگر جب لڑکی نے مڑ کر دیکھا تو وہ فلک نہیں تھی۔ عاصم نے محسوس کیا کہ جدائی صرف ایک شخص کی نہیں ہوتی، یہ ایک عادت بن جاتی ہے جو ہر چہرے میں اُس کی تصویر تلاش کرتی ہے۔ وہ گھر واپس آیا اور فلک کی ایک پرانی تصویر نکالی۔ تصویر میں فلک ہنسی ہوئی تھی اور عاصم نے اُس کے ساتھ بیٹھ کر ہاتھوں میں ہاتھ لیے ہوئے تھے۔ اُس نے تصویر کو چوما اور سوچا کہ شاید یادیں ہی وہ پل ہیں جو جدائی کے دریا کو پار کر سکتی ہیں۔


مہینے بدل گئے۔ عاصم نے ایک نئی ملازمت شروع کی، نئے لوگوں سے ملاقات کی، مگر دل میں ایک سوراخ تھا جس کو کوئی بھی پر نہیں بھر سکتا تھا۔ ایک دن اُسے فلک کا خط ملا، ایک لمبا خط جس میں اُس نے لکھا تھا کہ وہ ایک دوسرے شہر میں ہے، نئی زندگی شروع کی ہے، اور کبھی کبھار عاصم کو یاد کرتی ہے۔ خط کے آخر میں فلک نے لکھا: "تمہیں معاف کرنے کے لیے وقت چاہیے، مجھے بھولنے کے لیے۔" عاصم نے خط کو بار بار پڑھا، ہر بار اُسے لگا کہ شاید فلک واپس آ جائے گی۔ مگر وہ جانتا تھا کہ کچھ دروازے بند ہو کر رہ جاتے ہیں۔


عاصم نے ایک دن فیصلہ کیا کہ وہ فلک کو تلاش کرے گا۔ اُس نے شہر کے تمام راستے نکالے، اُن جگہوں پر گیا جہاں وہ دونوں اکثر جاتے تھے، مگر فلک کہیں نظر نہیں آئی۔ ایک بوڑھے دکاندار نے بتایا کہ وہ ایک لڑکی کو دیکھا تھا جو اسی گلی سے گزر گئی تھی، مگر وہ فلک نہیں تھی۔ عاصم نے محسوس کیا کہ تلاش بھی ایک طرح کی جدائی ہے، جہاں تم جانتے ہو کہ تمہیں کیا چاہیے مگر تمہیں یہ بھی پتہ ہے کہ وہ تمہیں نہیں ملے گا۔ وہ گھر واپس آیا اور فلک کی خوشبو والی شیشی کو کھولا۔ خوشبو اب کمزور ہو چکی تھی مگر عاصم نے محسوس کیا کہ جیسے فلک اب بھی کمرے میں ہے۔


Thanks for Read 

Part 1 Click Here

Follow me on WhatsApp channel 

Click Here 


Aik Larke Aur Larki Ka Waqia 

America Ki Tarekh Ki Ajeeb KhudKushi 

Chohdary Sahab Ke Baite Ki Anokhi Shadi 

Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan Horror Story 

Part 1    Part 2     Part 3

Do Admio Ne 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya 

Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo

 

Post a Comment

0 Comments