
اس مختصر تحریر کو وہ لوگ نہ پڑھیں۔
جن کا ماننا ہے کہ آج کی دنیا کافی ظالم ہے۔
ماضی تو پھر اچھا تھا اب وقت خراب ہوگیا ہے۔
یہ تصویر مئی 1945ء کی ہے۔
جب امریکی فوج آسٹریا کے بدنامِ زمانہ کیمپ گوسن پہنچے۔
دراصل گوسن کیمپ میں صرف قیدی نہیں رکھے گے۔
بلکہ انہیں پہاڑی کھودنے پہ مجبور کیا گیا تھا۔
وہ دن رات لگاتا پہاڑی کے اندر کھدائیاں کرتے۔
سو کر اٹھتے اور کم کھانا ملتا اور پھر سے کھدائی میں لگ جاتے۔
دراصل وہ نازیوں کے طیارے بنانے کے لیے خام مال نکالتے تھے۔
کہتے ہیں کہ کئی سو قیدی اسی خوفناک روٹین میں مرگے۔
اندھیرے کے اندر چند اوزار لیے وہ شب 12-16 گھنٹے کام کرتے۔
کہا جاتا ہے کہ اگر قیدی کام نہ کرتے تو انہیں سزائیں دی جاتی تھیں۔
۱): کھانے کے نام پہ پتلا سوپ دیا جاتا تھا۔
۲): معمولی سی بات پہ کوڑے، بندوق کے بٹ مارے جاتے تھے۔
۳): کمزور قیدیوں کو گیس چیمبر یا گولی ماردی جاتی تھی۔
۴): قیدیوں کو ڈرا کر دوسروں کے سامنے مارا جاتا تھا۔
چند شماری تفصیلات دیکھیے:
صرف گوسن کیمپ میں 60 ہزار قیدی تھے۔
جن میں سے 35 ہزار نے اپنی جانیں ہاریں۔
تصویر میں نظر آنے والے قیدی کا حال خوفناک ہے۔
جب کئی مہینوں کی مشقت کے بعد اسکو آزاد کرایا گیا۔
اور وہ دن رات کے دکھوں کے بعد روشنی دیکھ پایا۔
تو اس کے جسم کے ساتھ ایک زنجیر رگڑ کھارہی تھی۔
امریکی فوجیوں کو لگا کہ وہ ابھی بھی زنجیر میں جھکڑا ہوا ہے۔
مگر سامنے آنے پہ پتہ چلا کہ وہ زنجیر ساتھ کھینچ رہا تھا۔
اس سے جب وجہ پوچھی گی کہ زنجیر کیوں نہیں چھوڑی۔
اب تو تم آزاد ہو تو اس نے غم سے بھرپور انداز میں کہا:
“تاں کہ میں کبھی نہ بھولوں کے انہوں نے ہمارے ساتھ کیا کیا ہے۔”
شکر کیجیے آپ کی جنگ عظیم اول و دوئم میں ایسی جگہ پیدائش نہیں ہوئی۔
کیا آپ تیسری جنگِ عظیم ہوتے دیکھ رہے ہیں؟
اور پانی کے نام پہ ہونے والے فساد پہ یقین رکھتے ہو؟q
Thanks for Read
Follow me on WhatsApp channel
Click Here
America Ki Tarekh Ki Ajeeb KhudKushi
Chohdary Sahab Ke Baite Ki Anokhi Shadi
Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan Horror Story
Do Admio Ne 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya
Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo
0 Comments