Be Awaaz Cheekh

Be Awaaz Cheekh


**بے آواز چیخ**


رات کے دو بجے کا وقت تھا۔ پورا محلہ اندھیری چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ دور کہیں کتوں کے بھونکنے کی آوازیں خاموشی میں تیر کی طرح گونج رہی تھیں۔ چھت پر رکھی پرانی پانی کی ٹنکی سے ہلکی ہلکی ٹپکنے کی آواز آ رہی تھی۔ مگر اس خاموشی کے درمیان ایک ایسا منظر جنم لے رہا تھا جس کی گونج پورے شہر میں کئی دن بعد سنی جانے والی تھی۔


زینب کے کمرے میں مدھم بلب جل رہا تھا۔ اس کے چہرے پر خوف اور بے بسی کے سائے تھے۔ کمرے کی دیوار پر لٹکا ہوا قرآن مجید ہلکی ہوا سے جھول رہا تھا۔ زینب کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے، صرف وہ لرزتا ہوا سکوت تھا جو کسی چیخ کے دب جانے کے بعد باقی رہ جاتا ہے۔


دروازے کے باہر کسی کے بھاری قدموں کی چاپ سنائی دی۔ وہ قدم زینب کے جسم میں کپکپی دوڑا گئے۔ "زینب..." ایک کھردری آواز نے دروازے پر دستک دی۔ وہ اس آواز کو اچھی طرح پہچانتی تھی — وہ اس کے سوتیلے باپ قاسم کی تھی۔ زینب کے ہاتھ کانپنے لگے۔ وہ جلدی سے بستر کے ایک کونے میں دبک گئی۔


"دروازہ کھولو، زینب... رات کے اس پہر ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں، میں ہوں نا تمہارا باپ..."

یہ جملہ زہر کی طرح اس کے کانوں میں اترا۔ باپ؟ نہیں، باپ نہیں — وہ ایک درندہ تھا جو ماں کی موت کے بعد اس پر سایہ بن کر مسلط ہو گیا تھا۔


زینب نے دروازے کی کنڈی مضبوطی سے پکڑ لی۔ اس کے دل کی دھڑکن تیز تھی۔

"میں نہیں کھولوں گی!" اس نے روتے ہوئے کہا۔

دروازے کے باہر خاموشی چھا گئی۔ پھر اچانک زوردار لات پڑی۔ کنڈی ٹوٹ گئی۔ زینب نے چیخنے کی کوشش کی مگر آواز اس کے گلے میں پھنس گئی۔

بس ایک بے آواز چیخ — جو اس رات کے اندھیرے میں کہیں کھو گئی۔


اگلی صبح محلے والے حسبِ معمول اپنے کاموں میں مصروف تھے۔ کسی کو نہ خبر کہ اس گھر کی دیواروں میں ایک روح تڑپ رہی ہے۔ قاسم حسبِ معمول باہر چلا گیا۔ وہ ایک بلڈوزر ڈرائیور تھا، جو صبح سویرے نکل جاتا اور رات گئے لوٹتا۔ مگر زینب جانتی تھی کہ اس کی راتیں اکثر باہر نہیں گزرتیں، بلکہ وہ راتوں کو انسانیت کا جنازہ اٹھاتا ہے۔


زینب کی زندگی ایک روزمرہ کے خوف میں بدل چکی تھی۔ اس نے کئی بار پولیس کے پاس جانے کا سوچا، مگر کس منہ سے؟ پولیس والے پہلے ہی اس جیسے معاملات کو مذاق بنا دیتے۔ محلے والے کیا کہیں گے؟ "اپنے باپ پر الزام لگا رہی ہے؟"

یہ معاشرہ عورت کی سچائی کو ہمیشہ اس کی بدنامی سے جوڑ دیتا ہے۔


ایک دن اسکول میں زینب کے ٹیچر نے اس کی آنکھوں کے نیچے سوجن دیکھی۔

"زینب، تم ٹھیک ہو بیٹا؟"

زینب کے ہونٹ ہلے، مگر الفاظ گلے میں اٹک گئے۔ "جی، میں ٹھیک ہوں۔"

وہ نہیں جانتی تھی کہ اس کے ٹھیک ہونے کی قیمت اس کی سانسوں کی بقا ہے۔


کئی راتیں یوں ہی گزرتی رہیں۔ زینب نے ایک دن خود سے وعدہ کیا کہ اب نہیں۔ اب وہ اس خاموشی کو توڑے گی۔ اس نے اپنی ایک سہیلی، مریم، سے بات کی۔ مریم ایک بہادر لڑکی تھی جو سوشل ورک کرتی تھی۔

"زینب، تم اکیلی نہیں ہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ کل چلتے ہیں ویمن پروٹیکشن سینٹر۔"

زینب نے ہلکی سی امید کی سانس لی۔ کئی مہینوں بعد اسے لگا جیسے روشنی کا ایک سرا نظر آیا ہے۔


لیکن تقدیر ہمیشہ کمزوروں کے ساتھ کھیل کھیلتی ہے۔ اسی رات قاسم کو پتہ چل گیا کہ زینب کل کسی کے ساتھ کہیں جانے والی ہے۔

"کہاں جا رہی ہو تم؟"

"ک-کچھ نہیں، بس..."

قاسم نے زور سے اس کا بازو پکڑا۔ "میں جانتا ہوں سب کچھ، لیکن اگر تم نے کسی کو کچھ بتایا تو..."

اس نے ہوا میں مٹھیاں بند کیں۔

زینب نے اس کی آنکھوں میں درندگی دیکھی۔ وہ ایک لمحے کو سوچ بھی نہ سکی کہ اگلا لمحہ اس کے لیے کیسا ہوگا۔


صبح کے وقت محلے میں شور مچ گیا۔ لوگ جمع تھے۔ پولیس کی گاڑی کھڑی تھی۔

کسی نے بتایا، "گھر میں آگ لگ گئی تھی... اندر زینب تھی..."

کوئی کہہ رہا تھا، "حادثہ تھا شاید۔"

کوئی بولا، "نہیں، خودکشی لگتی ہے۔"


پولیس آئی، رپورٹ بنی۔ قاسم کے آنسو بہہ رہے تھے۔ "میری بچی... میری جان..."

کسی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا، "اللہ صبر دے، قاسم بھائی۔"

اور معاملہ وہیں دفن ہو گیا۔


مگر حقیقت وہ نہیں تھی جو نظر آ رہی تھی۔

زینب کی سہیلی مریم جانتی تھی کہ یہ حادثہ نہیں ہو سکتا۔ اس نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی:

"زینب کی موت ایک سوال ہے — کیا عورت کا جسم اب بھی کسی کی ملکیت ہے؟"


پوسٹ وائرل ہو گئی۔ میڈیا نے خبر پکڑی۔ رپورٹرز محلے میں آنے لگے۔ قاسم کی شکل بدلنے لگی۔ وہ پریشان تھا۔

چند دن بعد مریم کو ایک پرانا فون ملا۔ زینب کا۔ اس میں ایک ویڈیو تھی۔

زینب نے ریکارڈ کیا تھا:

"اگر میں زندہ نہ رہوں تو جان لینا کہ میری چیخ کسی نے نہیں سنی... کیونکہ میں چیخ نہ سکی۔ میری آواز میری قبر میں دفن ہو جائے گی۔"


یہ ویڈیو دیکھ کر مریم کے ہاتھ کانپنے لگے۔ اس نے فوراً پولیس کو دی۔

کیس دوبارہ کھلا۔ قاسم کو گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت میں زینب کی ویڈیو چلا دی گئی۔

کمرۂ عدالت میں سناٹا چھا گیا۔ جج نے فیصلہ سنایا:

"قاسم کو عمر قید کی سزا دی جاتی ہے۔"


کمرہ عدالت میں زینب کی ماں کی تصویر لگی تھی، جو اس نے بچپن میں کھینچی تھی۔

مریم نے وہ تصویر جیب سے نکالی اور عدالت کے باہر بیٹھ کر زینب سے بات کی جیسے وہ سن رہی ہو۔

"زینب، تمہارے خاموش رہنے کے باوجود تمہاری چیخ گونجی ہے۔ وہ بے آواز چیخ جس نے ایک نظام کو ہلا دیا۔"


شہر کے اخبار میں اگلے دن ایک ہی سرخی تھی:

"زینب کی بے آواز چیخ نے ظالم کو بولنے پر مجبور کر دیا"


وقت گزرتا گیا۔ مریم نے "زینب ویلفیئر ٹرسٹ" کے نام سے ایک ادارہ قائم کیا جہاں ایسی بچیوں کو پناہ دی جاتی تھی جن کی آواز دبا دی گئی تھی۔


ایک دن شام کے وقت، وہ دفتر میں اکیلی بیٹھی تھی۔ باہر ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ کھڑکی کے شیشے پر بوندیں ٹپک رہی تھیں۔

اس نے آنکھیں بند کیں اور ہلکی سی سرگوشی سنی —

"شکریہ مریم..."


وہ چونکی، مگر کمرے میں کوئی نہ تھا۔ بس ہوا کا ایک نرم جھونکا، اور دور سے اذان کی آواز آ رہی تھی۔


مریم نے مسکرا کر آسمان کی طرف دیکھا۔

"زینب، اب کوئی بھی چیخ بے آواز نہیں رہے گی..."


اور یوں ایک کہانی ختم نہیں ہوئی —

بلکہ ایک عہد کی ابتدا ہوئی۔


---


✨اختتام✨


یہ کہانی سماجی حقیقت اور انسانی ضمیر کی گہرائی کو چھوتی ہے —

یہ صرف زینب کی نہیں، ہر اُس عورت کی داستان ہے جس کی چیخ معاشرے نے سننے سے انکار کیا۔




 Thanks for Read 

Follow me on WhatsApp channel 

Click Here 


Aik Larke Aur Larki Ka Waqia 

America Ki Tarekh Ki Ajeeb KhudKushi 

Chohdary Sahab Ke Baite Ki Anokhi Shadi 

Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan Horror Story 

Part 1    Part 2     Part 3

Do Admio Ne 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya 

Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo

Post a Comment

0 Comments