
ڈیرے پر زمیندار چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا ہے۔ مراثی ہاتھ میں پرانا سا تھیلا پکڑ کر حاضر ہوتا ہے۔
زمیندار: اوئے مراثیا! پھر آ گیا تُو؟ اب کیا مانگنے آیا ہے؟
مراثی (معصومیت سے): چوہدری صاحب، اس بار مانگنے نہیں آیا، بلکہ دینے آیا ہوں۔
زمیندار (حیران ہو کر): دینے آیا ہے؟ کیا دینے آیا ہے؟
مراثی (فخر سے تھیلا آگے کر کے): دعائیں! ساری دعائیں جو آپ نے مجھے پچھلے سال گالیاں دے دے کر نکلوائی تھیں۔
(گاؤں والے قہقہے لگاتے ہیں)
زمیندار (غصے میں): اوئے بدتمیز! میں تجھے گالیاں دیتا ہوں اور تُو ان کو دعائیں بنا کے واپس لا رہا ہے؟
مراثی: جی چوہدری صاحب، آپ تو بڑے آدمی ہیں، گالی بھی دیں تو نعمت بن جاتی ہے۔ بس میں سوچا کہ یہ قیمتی مال واپس ہی کر دوں۔
زمیندار (ہنستے ہوئے): چل اوئے، بڑی زبان چلنے لگی ہے تیری۔ خیر، بتا اب اصل میں کیوں آیا ہے؟
مراثی (چالاکی سے): اصل بات یہ ہے چوہدری صاحب کہ آپ کے کھیتوں میں جو گندم اگتی ہے نا، اس میں میرا بھی حصہ ہے۔
زمیندار (غصے میں): تیرا حصہ؟ وہ کیسے؟
مراثی: جی، میں نے ہی تو پچھلے سال بارش کی دعائیں مانگی تھیں۔ بارش آئی، فصل بڑی، تو میرا بھی حصہ تو بنتا ہے نا۔
زمیندار (حقہ رکھتے ہوئے): واہ مراثیا واہ! یہ تو بالکل نیا قانون نکال لیا تُو نے۔
مراثی (مسکراتے ہوئے): قانون تو آپ کے پاس بھی نہیں ہوتا چوہدری صاحب، بس طاقت ہوتی ہے۔ تو میں نے سوچا دعا کی طاقت دکھا دوں۔
زمیندار (قہقہہ لگا کر): اچھا، بتا پھر کتنا حصہ چاہیے؟
مراثی (جلدی سے): بس ایک بوری گندم اور تھوڑے سے پیسے… تاکہ میری بیوی کو بھی لگے کہ میں گاؤں کا عقل مند آدمی ہوں۔
زمیندار (ہنستے ہنستے): او مراثیا! تُو تو سچ مچ گاؤں کی عقل کا استاد ہے۔ لے جا جو مانگ رہا ہے۔
Thanks for Read
Follow me on WhatsApp channel
Click Here
America Ki Tarekh Ki Ajeeb KhudKushi
Chohdary Sahab Ke Baite Ki Anokhi Shadi
Aik Larki Ki Bhayanak Dastaan Horror Story
Do Admio Ne 'Kim Bard' Nami Larki Ko Agwa Kiya
Muhabat Ko Kabhi Dafan Mat Karo
0 Comments