Lamha Judai Ka | Asim Ki Muhabat

Lamha Judai Ka | Asim Ki Muhabat


لمحہ جدائی 


وہ رات جب عاصم نے پہلی بار فلک کے چہرے پر دیر تک ٹھہرنے والی اداسی کے نشانات دیکھے تو اُس نے محسوس کیا کہ وقت کی ریت اُس کی ہتھیلیوں سے سرک رہی ہے۔ کمرے کی کھڑکی کے باہر سردی کی دھند اُٹھ رہی تھی اور اُس کے اندر ایک ایسی تنہائی پھیل رہی تھی جو صرف اُس لمحے کے لیے مخصوص تھی جب دل کو یقین ہو جاتا ہے کہ اب کچھ نہیں بچا۔ فلک، جو ہمیشہ ہنسی کے ساتھ اُس کی آنکھوں میں جھانکتی رہی تھی، آج وہی آنکھیں نیچی کر کے خاموش بیٹھی تھی۔ عاصم نے اپنی انگلیوں سے اُس کے بالوں کی ایک لٹ ہٹانے کی کوشش کی مگر فلک نے سر ہلکا سا پیچھے ہٹا دیا۔ یہ ہلکا سا حرکت بھی ایک جنگ کی طرح تھی جس میں عاصم نے شکست کو پہلی بار چکھا۔ اُس نے سوچا کہ شاید محبت کا اختتام بھی ایسا ہی ہوتا ہے، نہ کوئی شور، نہ کوئی گھنٹوں کی بحث، صرف ایک خاموشی جو تمام تر خواہشات کو نگل جاتی ہے۔


اُس رات جب وہ دونوں سونے کی کوشش کر رہے تھے تو بستر کے بیچ میں ایک بے نام خلا پھیل چکا تھا۔ عاصم نے اپنی پشت سیدھی کی اور آنکھیں بند کیں مگر اندر سے ایک آواز آ رہی تھی جو کہہ رہی تھی کہ اب یہ آخری بار ہے جب وہ فلک کی سانسوں کی آواز اپنے کانوں میں محسوس کر رہا ہے۔ فلک نے اپنی پیٹھ اُس کی طرف کی ہوئی تھی اور عاصم کو یاد آیا کہ جب وہ پہلی بار ملے تھے تو فلک نے اُسی طرح پیٹھ کی تھی مگر پھر وہ ایک لمحے میں پلٹی تھی اور ہنسی تھی۔ آج وہ ہنسی کہیں کھو چکی تھی۔ عاصم نے ہاتھ بڑھایا کہ شاید وہ اُس کا ہاتھ پکڑ لے مگر فلک نے اپنی انگلیاں مٹھی میں بند کر لیں۔ یہ مٹھی بھی ایک قسم کی جدائی تھی، جیسے ہاتھوں نے پہلے ہی راستے الگ کر لیے ہوں۔


صبح جب عاصم کی آنکھ کھلی تو فلک بستر پر نہیں تھی۔ اُس نے سوچا کہ شاید وہ کچن میں چلی گئی ہے مگر جب وہ وہاں گیا تو صرف ایک پرانا چولہا تھا جس پر دودھ اُبل رہا تھا۔ کمرے کی میز پر ایک لفافہ رکھا تھا۔ عاصم نے اُسے کھولا تو اندر ایک خط تھا جس پر فلک کی لکھائی تھی: "عاصم، مجھے جانا ہے۔ معاف کرنا۔" اتنے مختلف الفاظ، جیسے کوئی ہزاروں صفحات کی کہانی کو دو جملوں میں سمیٹ دے۔ عاصم نے خط کو بار بار پڑھا، ہر بار اُسے لگا کہ شاید اگلی نظر میں کوئی نیا جملہ ظاہر ہو جائے گا جو کہے کہ یہ سب مذاق ہے۔ مگر نہیں، وہی دو جملے، وہی سادہ حروف جو اب تلوار بن کر اُس کے سینے میں اتر رہے تھے۔


وہ دن جب فلک نے اپنا سامان باندھا تھا تو عاصم نے دروازے کے پاس کھڑے ہو کر دیکھا کہ کس طرح ایک ایک چیز کمرے سے اُٹھ کر بیگ میں جا رہی ہے۔ وہ اُس کی قمیض تھی جو عاصم نے اُسے پہلی تنخواہ پر دی تھی، وہ کتاب جس کے صفحات پر دونوں نے ساتھ ساتھ نوٹ لکھے تھے، اور وہ چھوٹی سی شیشی جس میں عاصم نے ایک بار فلک کے لیے خوشبو بھری تھی۔ اب سب کچھ ایک دوسرے سے جدا ہو رہا تھا۔ فلک نے آخری بار کمرے کو دیکھا، جیسے وہ یادوں کو اپنی آنکھوں میں محبوس کرنا چاہتی ہو۔ عاصم نے سوچا کہ شاید وہ رک جائے گی، شاید وہ کہے گی کہ یہ سب غلطی ہے۔ مگر فلک نے دروازے کی طرف قدم بڑھا دیا اور عاصم نے محسوس کیا کہ زمین اُس کے پاؤں سے نکل رہی ہے۔


باہر گلی میں دھوپ تھی مگر عاصم کو سردی لگ رہی تھی۔ فلک نے ایک رکشہ روکا اور بیگ اس کے اندر رکھا۔ عاصم نے آخری کوشش کی: "کیا تم واقعی جا رہی ہو؟" فلک نے سر ہلایا، نہ ہاں میں نہ ناں میں۔ صرف ایک ہلکی سی حرکت جو کہہ گئی کہ اب سب ختم ہو چکا ہے۔ رکشہ چل پڑا اور عاصم نے دیکھا کہ فلک کا چہرہ آہستہ آہستہ دھندلا ہوتا جا رہا ہے۔ اُس نے ہاتھ ہلایا مگر فلک نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ وہ رکشہ گلی کے موڑ پر غائب ہو گیا اور عاصم وہیں کھڑا رہ گیا، جیسے دنیا میں کسی نے اُسے اکیلا چھوڑ دیا ہو۔

آگے کا حصہ جلد آپ تک پہنچ جائے گا .






Post a Comment

0 Comments